ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دگ وجے سنگھ بمقابلہ شیوراج سنگھ چوہان؟ کانگریس کے قدم نے بی جے پی کو دوبارہ سوچنے پر کیا مجبور

دگ وجے سنگھ بمقابلہ شیوراج سنگھ چوہان؟ کانگریس کے قدم نے بی جے پی کو دوبارہ سوچنے پر کیا مجبور

Mon, 25 Mar 2019 11:28:08    S.O. News Service

بھوپال، 25 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کانگریس کی طرف سے بی جے پی کے گڑھ بھوپال پارلیمانی سیٹ سے دگ وجے سنگھ کو انتخابی میدان میں اتارنے کے چونکانے والے فیصلے نے بی جے پی کو یقینی طور پر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ایسی خبریں ہیں کہ پارٹی اپنی حکمت عملی پر دوبارہ کام کر رہی ہے اور دو بار وزیر اعلی رہے دگوجے سنگھ کے خلاف کوئی مضبوط امیدوار اتار سکتی ہے۔یہ امیدوار شیوراج سنگھ چوہان بھی ہو سکتے ہیں جو خود تین بار ریاست کے وزیر اعلی رہے ہیں۔گزشتہ سال ہوئے اسمبلی انتخابات میں شیوراج سنگھ چوہان کو کانگریس کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اس کے بعد سے انہوں نے خود کو ریاست کے لیے وقف کیا ہوا ہے۔ انہوں نے ہر موقع پر ریاست کی کمل ناتھ سرکار اور کانگریس کو گھیرا ہے اور خود کو اس کا سب سے بڑا ناقد بھی ثابت کیا ہے۔ شیوراج سنگھ چوہان ودیشا لوک سبھا سیٹ سے 15 سال تک کے رہنما رہے ہیں۔لیکن وزیر اعلی نامزد کئے جانے کے بعد انہوں نے بدھنی کے علاقے کا انتخاب کیا جس کی وہ آج بھی نمائندگی کرتے ہیں۔لیکن 2008 میں ہوئے مالیگاؤں دھماکے کی ملزم سادھوی پرگیہ ٹھاکر جنہیں بعد میں عدالت نے بری کر دیا تھا انہوں نے بھی دگوجے سنگھ کے خلاف الیکشن لڑنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔بھوپال لوک سبھا سیٹ پر تقریبا تین دہائی سے بی جے پی کا قبضہ ہے۔کانگریس لیڈر شنکر دیال شرما، جو ملک کے صدر بھی رہے نے 1984 میں اس سیٹ پر جیت درج کی تھی۔1989 سے لے کر بی جے پی کے سشیل چندر ورما نے تین پر یہاں کی نمائندگی کی۔1999 میں اوما بھارتی یہاں سے جیتیں لیکن مدھیہ پردیش کا وزیر اعلی بننے کے بعد انہیں استعفی دینا پڑا۔فی الحال اشوک ساجھر بھوپال سے ایم پی ہیں۔دگ وجے سنگھ کی انٹری سے پہلے شہر کے میئر آلوک شرما اور پارٹی کے جنرل سکریٹری ويڈي شرما کو ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھ رہی تھی۔ویسے تو بی جے پی یہ جتا رہی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔پارٹی کے ترجمان راہل کوٹھاری نے کانگریس کے اس اقدام کو گروپ بندی قرار دیا۔کوٹھاری نے کہاکہ یہ اس لئے کیا گیا ہے کہ اگر پارٹی ہاری تو بھی کمل ناتھ کے تسلط کو کوئی چیلنج نہ دے سکے۔لیکن ذاتی طور پر رہنماؤں نے مانا کچھ فکر کی باتیں تو ہیں۔اس لوک سبھا علاقے میں واقع 8 اسمبلی حلقوں میں سے 3 کانگریس کے ساتھ ہیں۔


Share: